ابنا: ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی میزہ میں واقع فوجی اڈے کو دہشت گرد کارروائی میں ہدف بنانے کی کوشش کے تحت یہ دھماکہ کیا گیا ہے۔
غور طلب ہے کہ مارچ سال دو ہزار گیارہ سے شام میں غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد وسیع پیمانے پر تباہی مچا رہے ہیں اور سکیورٹی فورسز سمیت معصوم عوام کو دہشت گردانہ کارروائیوں میں ہدف قرار دے رہے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک تیرانوے ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اتوار کی شب دمشق کے مضافات میں واقع جس فوجی اڈے کو دہشت گرد کارروائی میں ہدف بنانے کی کوشش کی گئی اس کا شمار اہم دفاعی تنصیبات میں ہوتا ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق، دھماکے کے بعد آگ کا بڑا شعلہ بلند ہوا۔
رواں سال اپریل میں اسی ضلع میں شام کے وزیراعظم پر ایک کار بم حملہ ہوا تھا تاہم وہ اس میں محفوظ رہے تھے۔
حالیہ ہفتوں میں شام کی سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت کے مضافات سمیت ملک کے کئی اسٹریٹجک علاقوں سے غیر ملکی حمایت یافتہ مسلح باغیوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔
شام میں دہشت گردوں کی پسپائی سے تشویس میں مبتلا باراک اوباما سرکار نے دہشت گردوں کو اینٹی ٹینک سمیت سنگین ہتھیاروں کی مزید فراہمی کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر شام کے اوپر نو فلائی زون بنانے کی بھی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جسے روس نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کے تئیں سخت وارننگ دی ہے۔
.......
/169